برو به کار خود ای واعظ این چه فریادست
ترجمہ از سید شاکر القدادری
برو به کار خود ای واعظ این چه فریادست
مرا فتاد دل از ره تو را چه افتادست
اے واعظ! جا اپنا کام کر یہ کیا شور مچا رکھا ہے
میرا تو دل میرے ہاتھوں سے گیا ـ تجھ پر کیا افتاد پڑی ہے
ــــ
میان او که خدا آفریده است از هیچ
دقیقه*ایست که هیچ آفریده نگشادست
اس محبوب کی کمر جس کو خدا نے عدم سے بنایا ہے
ایک ایسا راز ہے جس کو ابھی تک کسی پیدا ہونے والے نے نہیں کھولا ہے
ــــــــ
به کام تا نرساند مرا لبش چون نای
نصیحت همه عالم به گوش من بادست
جب تک اس کے لب مجھے اپنے مدعا تک اس طرح نہیں پہنچائیں گے جیسے بانسری کو لبوں سے لگایا جاتا ہے
اس وقت تک دنیا کی تمام نصیحتین میرے کانوں میں ہوا کی طرح ہیں
ــــــــ
گدای کوی تو از هشت خلد مستغنیست
اسیر عشق تو از هر دو عالم آزادست
تیرے کوچہ کا گدا آٹھ کی آٹھ جنتوں سے بے نیاز ہے
اور تمہاری قید میں آنے والا قیدی دونوں جہانوں سے آزاد ہے
ـــــ
اگر چه مستی عشقم خراب کرد ولی
اساس هستی من زان خراب آبادست
اگرچہ مجھے عشق کی مستی نے خراب کر دیا ہے لیکن
میری ہستی کی بنیاد اسی خرابی کی وجہ سے آباد ہے
ـــــــــــــــــــــــــ
دلا منال ز بیداد و جور یار که یار
تو را نصیب همین کرد و این از آن دادست
اے میرے دل! یار کے ظلو و جور سے نالاں نہ ہو اس لیے کہ یار نے
تیرا بھی حصہ رکھا ہے اور یہی انصاف کی بات ہے
ــــــــــــــــــ
برو فسانه مخوان و فسون مدم حافظ
کز این فسانه و افسون مرا بسی یادست
اے حافظ! جاؤ! ہمیں افسانے مت ساؤ اور مجھ پر منتر پڑھ کر مت پھونکو
کیونکہ اس قسم کے فسانے اور منتر مجھے بہت یاد ہیں
نیپال مسجد
آج ایک ایس، ایم ،ایس آیا تھا ۔ ساتھ ہی یو ٹیوب کا لنک دیا ہوا تھا۔
ایس ، ایم ،ایس میں یہ لکھا تھا کہ نیپال کی ایک مسجد کے مینار پر گنبد لگانے کے لیے کرین کی ضرورت پڑی اور ایک غیرمسلم سے کرین مانگی گئی۔ اس نے انکار کیا اور کہا :
اپنے خدا سے مدد مانگو۔۔۔
مسجد کے امام کو خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گنبد پر ایک سفید کپڑا ڈال دو ۔
سفید کپڑا ڈال دیا گیا اور گنبد ہوا میں اڑتا ہوا مینار پر جا ٹکا ۔۔
دیکھیے وڈیو موجود ہے ۔
http://www.youtube.com/watch?v=2W4NfchYRaI
آپ اس پر بحث کرسکتے ہیں ۔
اسلام میں سیاسی غلبہ کی ضمانت
حسن نظامی
ماخوذ از
1۔ قرآنی فلسفہ انقلاب ، ڈاکٹر محمد طاہر القادری
2۔ قرآن اور مسلمانوں کے زندہ مسائل ۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی
دنیا کا حسن و جمال خیر و شر کے امتزاج سے ہے۔ اسی کی بدولت دنیا کی رنگینی اور حسن و جمال قائم ہے اگر بدصورتی نہ ہوتی تو خوبصورتی کی پہچان کسے ہوتی،ظلم نہ ہوتا تو انصاف کا اقرار کون کرتا ، جھوٹ نہ ہوتا تو سچائی کی قدر کس کو ہوتی ،نیکی نہ ہوتی تو بدی کا تصور کون کر سکتا تھا، خیانت نہ ہوتی تو امانت کا خیال کس کو آتا۔غرض دنیا مجموعۂ اضداد ہے اور اس تضاد کی بدولت اس کا حسن برقرار ہے۔ خیر کو شر کی ضد کے طور پر جانا جاتا ہے اور شر کو خیر کی نقیض سمجھا جاتا ہے ۔خیر و شر ازل سے باہم متصادم ہیں اور ابد تک رہیں گے۔
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
اسی کشمکش میں حیات کی خوبصورتی پنہاں ہے یہی وہ راز ہیجس نے خاک ناچیز کو مسجود ملائکہ بنا دیا،یہی سوزِ درون حیات ہے ، یہی لہو گرم رکھنے کا بہانا ہے، یہی وہ متاع بے بہا ہے جس کی وجہ سے بندگی کی قدر و قیمت بے انتہاء بڑھ گئی ہے :
مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
اگر یہ تضاد اور کشمکش نہ ہوتی تو کائنات بے رنگ و بو ہوتی۔ اسی ہنگامہ ہائے شوق کی بدولت یہ کارگاہِ حیات پرشور و پرزور ہے ۔اور اس کائنات میں یہ آب و رنگ انسان کی بدولت ہے یہ رنگینیاں انسان کی مرہون منت ہیں اور اسی کی بدولت قائم و دائم ہیں۔یہ کائنات انہیں رعنائیوں کی بدولت اس خاک نشین انسان کو دعائیں دیتی ہے:
یہ دشت سادہ یہ تیرا جہان بے بنیاد