میرے لیے ہے | القلم بلاگ


میرے لیے ہے

جنوری ـ 1990

یہ فرشِ زمیں سقفِ سماں میرے لیے ہے


یہ سلسلۂِ صبح و مسا میرے لیے ہے


ہیں میرے لیی کاہکشاں چاند ستارے


خورشیدضیا پاش ہوا میرے
لیے ہے


یہ سبزۂ و گل برگ و ثمر میرے
لیے ہیں


لچکی ہوئی ڈالی کی ادا میرے
لیے ہے


چھائی ہیں میرے واسطے ساون کی گھٹائیں


یہ ابر یہ بارش یہ ہوا میرے لیی ہے


میرے لیے ہی قوس قزح رنگ بکھیرے


فطرت کی یہ رنگین عبا میرے
لیے ہے


یہ چادرِ مہتاب یہ شادائیِ گلشن


یہ نگہتِ گل رنگِ حنا میرے
لیے ہے


اخلاق وتمدن کا ہر اک اوج مرا ہے


دل میرے لیے ذہن رسا میرے
لیے ہے


سورج کی طرح میں بھی سر افراز جہاں ہوں


کنعان میرا، ملک سبا میرے
لیے ہے


ہے میرے لئے سوزِ دروں اور محبت


یہ جذبۂِ ایثار و وفا میرے لیی ہے


میں مست الستی ہوں میری بات نہ پوچھو


پیمانِ ازل ’’قالو بلی ‘‘میرے
لیے ہے

قدرت کا ہر لطف و عطا میرے لیی ہے


ہیں حاصلِ مضرابِ محبت میرے نغمے
مذمور مغنی کی صدا میرے
لیے ہے


’’شاکر‘‘ پہ سبھی کچھ ہے محمدؐ کے تصدق
گر میں ہوں محمد﴿ص﴾ کا، خدا میرے
لیے ہے


اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد



2 تبصرے to “میرے لیے ہے”

  1. تمام صاحب علم و فراست سے التماس ہے القم پر اکاؤنٹ بنان سکھا دیں۔
    غلام مصطفیٰ مغل

تبصرہ کریں