سوزو فرا ق و آتش ہجران کی بات کر
یاد نبیؐ میں دیدۂِ گریاں کی بات کر
کر ذکر اہرمن کا نہ یزداں کی بات کر
یزداں صفات بندۂِ یزداں کی بات کر
ہوش و حواس و صبر و نظر سب ہوئے نثار
ے دل سنبھل کے جلوۂ جاناں کی بات کر
شوریدگی عشق کا یہ بھی ہے اک مقام
مت پرزہ ہائے جیب و گریباں کی بات کر
دل کا صدق ہے تشنۂ لطف وکرم ابھی
اے آنکھ!کچھ تو قطرۂ نسیاں کی بات کر
انگلی کٹی تھی واں پہ تو کٹتے ہیں سر یہاں
مجھ سے نہ حسن یوسف کنعان کی بات کر
غربال پاہوں جادۂ الفت میں اے جنوں
اب تو نہ دشت و خار و مغیلاں کی بات کر
ہر اک دھان زخم سے آتی ہے یہ صدا
اس سیم تن کے ناوکِ مثرگاں کی بات کر
کر ذکر کچھ تو سید خیرالانام کا
بہر خدا رسول رسولاں کی بات کر
لرزاں ہیں جس سے قیصرو کسری کے تخت و تاج
اس بوریا نشینں شۂ ذیشاں کی بات کر
جل جائے جس سے خرمن عصیاں بیک نظر
میرے نبی کی رحمت سوزاں کی بات کر
اک چاندنی سی دل کے صحن میں ہے کھل گئی
یاد نبی کے ماہ درخشاں کی بات کر
عرش بریں بھی طالب نعلین پاک ہے
گردوں نواز ہاشمی مہماں کی بات کر
ہر ایک غنچہ محو سپاس گلاب ہے
ان کی عطا کو وسعت ادراک بھی ہے کم
شاکر علاج تنگیٔ داماں کی بات کر
اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد
ء