موجودہ مقام: نعتیں

اے عندلیب جان گلستاں کی بات

HZMUHAMMED

سوزو فرا ق و آتش ہجران کی بات کر
یاد ن
بیؐ میں دیدۂِ گریاں کی بات کر


کر ذکر اہرمن کا نہ یزداں کی بات کر
یزداں صفات بندۂِ یزداں کی بات کر


ہوش و حواس و صبر و نظر سب ہوئے نثار
ے دل سنبھل کے جلوۂ جاناں کی بات کر

شوریدگی عشق کا یہ بھی ہے اک مقام
مت پرزہ ہائے جیب و گریباں کی بات کر


دل کا صدق ہے تشنۂ لطف وکرم ابھی
اے آنکھ!کچھ تو قطرۂ نسیاں کی بات کر

انگلی کٹی تھی واں پہ تو کٹتے ہیں سر یہاں
مجھ سے نہ حسن یوسف کنعان کی بات کر


غربال
پاہوں جادۂ الفت میں اے جنوں
اب تو نہ دشت و خار و مغیلاں کی بات کر

ہر اک دھان زخم سے آتی ہے یہ صدا
اس سیم تن
کے ناوکِ مثرگاں کی بات کر


کر ذکر کچھ تو سید خیرالانام کا
بہر خدا رسول رسولاں کی بات کر


لرزاں ہیں جس سے
قیصرو کسری کے تخت و تاج
اس بوریا نشینں شۂ ذیشاں کی بات کر


جل جائے جس سے خرمن عصیاں بیک نظر
میرے نبی کی رحمت سوزاں کی بات کر


اک چاندنی سی دل کے صحن میں ہے کھل گئی
یاد نبی کے ماہ درخشاں کی بات کر

عرش بریں بھی طالب نعلین پاک ہے
گردوں نواز ہاشمی مہماں کی بات کر


ہر ایک غنچہ محو سپاس گلاب ہے


ان کی عطا کو وسعت ادراک بھی ہے کم
شاکر علاج تنگیٔ داماں کی بات کر

اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد
ء

میرے لیے ہے

جنوری ـ 1990

یہ فرشِ زمیں سقفِ سماں میرے لیے ہے


یہ سلسلۂِ صبح و مسا میرے لیے ہے


ہیں میرے لیی کاہکشاں چاند ستارے


خورشیدضیا پاش ہوا میرے
لیے ہے


یہ سبزۂ و گل برگ و ثمر میرے
لیے ہیں


لچکی ہوئی ڈالی کی ادا میرے
لیے ہے


چھائی ہیں میرے واسطے ساون کی گھٹائیں


یہ ابر یہ بارش یہ ہوا میرے لیی ہے


میرے لیے ہی قوس قزح رنگ بکھیرے


فطرت کی یہ رنگین عبا میرے
لیے ہے


یہ چادرِ مہتاب یہ شادائیِ گلشن


یہ نگہتِ گل رنگِ حنا میرے
لیے ہے


اخلاق وتمدن کا ہر اک اوج مرا ہے


دل میرے لیے ذہن رسا میرے
لیے ہے


سورج کی طرح میں بھی سر افراز جہاں ہوں


کنعان میرا، ملک سبا میرے
لیے ہے


ہے میرے لئے سوزِ دروں اور محبت


یہ جذبۂِ ایثار و وفا میرے لیی ہے


میں مست الستی ہوں میری بات نہ پوچھو


پیمانِ ازل ’’قالو بلی ‘‘میرے
لیے ہے

قدرت کا ہر لطف و عطا میرے لیی ہے


ہیں حاصلِ مضرابِ محبت میرے نغمے
مذمور مغنی کی صدا میرے
لیے ہے


’’شاکر‘‘ پہ سبھی کچھ ہے محمدؐ کے تصدق
گر میں ہوں محمد﴿ص﴾ کا، خدا میرے
لیے ہے


اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد