القلم پر خوش آمدید
! القلم پر خوش آمدید ... آیئے فروغ اردو میں ہمارے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کیجئےـ اپنی علمی اور ادبی تحریروں کے ساتھ اھل قلم کے اس کاروان قلم میں شامل ہو جایئے!



واپس جايئے   القلم > ادبيات > اردو نثر > مضامین

 
 
موضوع، فورم کے اوزار نمائش کے انداز
Prev اگلا موضوع   اگلا پیغام Next
  #1  
پرانا 09 جنوري 2010, 01:04 ص
شاکرالقادری کا اوتار
شاکرالقادری شاکرالقادری آف لائن ہے
منتظم اعلیٰ
پوائنٹ: 1,607,720, سطح: 100 پوائنٹ: 1,607,720, سطح: 100 پوائنٹ: 1,607,720, سطح: 100
Level up: 0% Level up: 0% Level up: 0%
فعالیت: 96% فعالیت: 96% فعالیت: 96%
http://www.files.alqlm.org/images/ForumRanks/ur-founder.gif
 
تاريخ شموليت: 01 جولاي 2006
پيغامات: 1,829
شہرت کی مقدار: 10
شاکرالقادری نے شہرت غیر فعال کر دی ہے
طے شدہ ماں جھوٹ بولتی ہے

آج مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں یہ تحریر موجود تھیﹺ معلوم نہیں یہ کس کی تحریر ہے لیکن مجھے اچھی لگی اس لیے آپ کی نذر کرتا ہوں:
اقتباس:
میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔۔
آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔
٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔

٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔

٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوںکے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا

٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔

٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری ی حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیںمجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔

٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا۔

٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواںجھوٹ تھا۔

٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں
جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔

جن کے پاس ماں ہے۔۔۔اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں اس سے پہلے کہ یہ نعمت تم سے بچھڑ جائے۔
اور جن کے پاس نہیں ہے۔۔ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا۔۔اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہنا
اقتباس کے ساتھ جواب دیں
ان 5 اراکین نے شاکرالقادری کا اس مفید مراسلے کے لئے شکریہ ادا کیا ہے۔
 

بک مارک

ٹیگز
اردو نثر, ماں

موضوع، فورم کے اوزار
نمائش کے انداز

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات
آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں

مسکراھٹيں آن ہیں
[IMG] کوڈ آن ہے
HTML کوڈ آف ہے

فورم پر جائیں


تمام اوقات GMT +6 ہیں۔ اب وقت ہوا ہے۔12:10 ش


Powered by vBulletin® Version 3.8.4
Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd
اردو ترجمہ از: سيد شاکرالقادری (القلم فورم)
قلم گوید کہ من شاہ جہانم